Back

ⓘ عالمی ثقافتی ورثہ - یونیسکو عالمی ثقافتی ورثہ, مقامات کی فہرستیں, کمیٹی, امریکی عالمی ثقافتی ورثہ مقامات کی فہرست, البانیا کے عالمی ثقافتی ورثہ مقامات کی فہرست ..



                                               

یونیسکو عالمی ثقافتی ورثہ

"یونیسکو عالمی ثقافتی ورثہ" ایسے مقام کو کہا جاتا ہے جسے بین الاقوامی عالمی ثقافتی ورثہ پروگرام کے تحت اقوام متحدہ کے تعلیمی سائنسی و ثقافتی ادارے کی عالمی ثقافتی ورثہ کمیٹی کی مرتب کردہ فہرست کے لیے نامزد یا اس میں شامل کیا گیا ہو۔ یہ منصوبہ ثقافتی یا قدرتی اہمیت کے حامل مقامات کی فہرست مرتب کرنے اور ان کی حفاظت کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ مختلف شرائط کے تحت مندرج مقامات کو عالمی ورثہ فنڈ میں سے رقوم فراہم کی جاتی ہیں۔ یہ منصوبہ "عالمی ثقافتی و قدرتی ورثے کی حفاظت کے حوالے سے میثاق" کے ذریعے شروع ہوا جسے یونیسکو کی مجلس عمومی نے 16 نومبر 1972ء کو اختیار کیا۔ اس وقت سے 184 ممالک اس کنونشن کی ...

                                               

عالمی ثقافتی ورثہ مقامات کی فہرستیں

فہرست ارجنٹائن کے عالمی ثقافتی ورثہ مقامات فہرست کینیڈا کے عالمی ثقافتی ورثہ مقامات فہرست برازیل کے عالمی ثقافتی ورثہ مقامات فہرست کیوبا کے عالمی ثقافتی ورثہ مقامات فہرست امریکین کے عالمی ثقافتی ورثہ مقامات فہرست میکسیکو کے عالمی ثقافتی ورثہ مقامات فہرست پیرو کے عالمی ثقافتی ورثہ مقامات فہرست ہیٹی کے عالمی ثقافتی ورثہ مقامات فہرست ریاستہائے متحدہ امریکہ کے عالمی ثقافتی ورثہ مقامات

                                               

عالمی ثقافتی ورثہ کمیٹی

عالمی ثقافتی ورثہ کمیٹی یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ کی فہرست میں شامل ہونے والے مقامات کا تعین کرتی ہے۔ یہ 21 ریاستی جماعتوں پر مشتمل ہے جنہیں چار سالہ مدت کے لیے ریاستی جماعتوں کی جنرل اسمبلی منتخب کرتی ہے۔

                                               

امریکی عالمی ثقافتی ورثہ مقامات کی فہرست

یہ یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ کی ایک فہرست ہے جس میں شمالی امریکا، وسطی امریکہ، جنوبی امریکا اور کیریبین شامل ہیں۔ گرین لینڈ کے یورپ کے ساتھ ثقافتی اور سیاسی تعلق کے باوجود یہاں شمالی امریکا کے حصہ کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔

                                               

البانیا کے عالمی ثقافتی ورثہ مقامات کی فہرست

اقوام متحدہ کی تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی تنظیم کے عالمی ثقافتی ورثہ سائٹس ثقافتی یا قدرتی ورثہ کے لئے اہم مقامات ہیں جیسا کہ 1972 میں قائم ہونے والے یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ کنونشن میں بیان کیا گیا ہے۔ البانیہ نے 10 جولائی 1989 کو عالمی ثقافتی اور قدرتی ورثہ کے تحفظ سے متعلق کنونشن کی توثیق کی اور اس کے تاریخی مقامات کو اس فہرست میں شامل کرنے کے اہل قرار دیا۔

                                               

فہرست جنوبی ایشیا کے عالمی ثقافتی ورثہ مقامات

یہ فہرست جنوبی ایشیا کے عالمی ثقافتی ورثہ مقامات ہے۔ یونیسکو نے جنوبی ایشیا کے سات ممالک افغانستان، پاکستان، بھارت، نیپال، سری لنکا، بنگلہ دیش اور بھوٹان میں 55 یونیسکو عالمی ثقافتی ورثہ نامزد کیے ہیں۔

                                               

الحمرا

غرناطہ میں پہاڑی پر تعمیر کردہ ایک خوبصورت محل۔ مسلمانوں نے ہسپانیہ پر کوئی آٹھ سو سال تک حکومت کی۔ جہاں انھوں نے علم و فضل کو ترقی دی وہاں شاندار مسجدیں اور محل بھی تعمیر کرائے جن میں ‌غرناطہ کا قصر الحمرا خاص شہرت کا مالک ہے۔ مسلمانوں کے زوال کے بعد ان کی حکومت کے بیشتر نشانات مٹا دیے گئے۔ صرف چند آثار ان کی عظمت پارینہ کے شاہد ہیں۔ الحمرا کا محل سرخ پتھر سے بنایا گیا ہے۔ اس لیے اس کا نام الحمرا ہے۔ 1213ء میں محمد ثانی نے اس کی بنیاد رکھی اور یوسف اول نے 1345ء میں اس کو عربی طرز کے نقش و نگار سے مزین کیا۔ اس محل کے کمرے جس صحن کے اردگرد بنے ہوئے ہیں اسے البراقہ کہتے ہیں۔ جس کے معنی ہیں ب ...

                                               

بامیان کے بدھ

بامیان کے بدھا چھٹی صدی عیسوی کے دور کے یادگاری مجسمے تھے جو وادی بامیان میں ایک پتھریلی چٹان پر بنائے گئے تھے۔ وادی بامیان، افغانستان کے وسطی ہزارہ جات علاقہ میں صوبہ بامیان میں واقع ہے۔ یہ وادی کابل سے تقریباؐ 230 کلومیٹر کے فاصلے پر شمال مغرب کی جانب واقع ہے۔ سطح سمندر سے اس علاقہ کی بلندی 2500 میٹر ہے۔ پہلا مجسمہ 507ء جب کہ دوسرا بڑا مجسمہ 554ء میں مکمل ہوا۔ ان مجسموں میں واضع طور پر فن گندھارا کا عکس دکھائی دیتا ہے۔ ان مجسموں کے اجسام پتھریلی چٹان میں کندہ کر کے تخلیق کیے گئے ہیں جبکہ باقی کی جسمانی تفاصیل اور آرائش کیچڑ، بھوسے اور سخت چونے کی آمیزش والے مواد سے کی گئی ہے۔ مجسموں پر ی ...

                                               

تخت بائی

تخت بائی پشاور سے تقریباًً 80 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک بدھا تہذیب کی باقیات پر مشتمل مقام ہے جو اندازہً ایک صدی قبلِ مسیح سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ مردان سے تقریباًً 15 پندرہ کلومیٹر کے فاصلے پر صوبہ سرحد میں واقع ہے۔ اس مقام کو 1980 میں یونیسکو نے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا گیا تھا۔ تخت اس کو اس لیے کہا گیا کہ یہ ایک پہاڑی پر واقع ہے اور بہائی اس لیے کہ اس کے ساتھ ہی ایک دریا بہتا تھا۔ تخت بھائی تحصیل مردان کا سب سے زرخیز علاقہ ہے۔ یہاں کئی طرح کی فصلیں اُگتی ہیں، جن میں پٹ سن، گندم اور گنا وغیرہ شامل ہیں اس زمین کی زرخیزی کے پیشِ نظر ایشیا کا پہلا شکر خانہ یا شوگرمل برطانوی راج میں یہاں بدھا ص ...

                                               

شالامار باغ

باغ ایک مستطیل شکل میں ہے اور اس کے اردگرد اینٹوں کی ایک اونچی دیوار ہے۔ شمال سے جنوب کی طرف لمبائی 658 میٹر اور مشرق سے مغرب کی طرف چوڑائی 258 میٹر ہے۔ باغ 3 حصوں میں بٹا ہوا ہے اور تینوں کی بلندی ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ ایک حصہ دوسرے سے 4.5 میٹر تک بلند ہے۔ ان حصوں کے نام فرح بخش، فیض بخش اور حیات بخش ہیں۔ باغ کو ایک نہر سیراب کرتی ہے۔ اس میں 410 فوارے، 5 آبشاریں اور آرام کے لیے کئی عمارتیں ہیں اور مختلف اقسام کے درخت ہیں۔

                                               

عظیم حائل شعب

گریٹ بیرئیر ریف یا عظیم حائل شعب دنیا کا سب سے بڑا سنگی مرجانی چٹانوں کا نظام ہے جو 2900 انفرادی سنگستانوں اور 900 جزائر پر مشتمل ہے جو تقریباً 3 لاکھ 44 ہزار 400 مربع کلومیٹر کے علاقے میں 2600 کلومیٹر تک پھیلے ہوئے ہیں۔ سنگی مرجانی چٹانوں کا یہ نظام آسٹریلیا کے شمال مشرقی میں کوئنزلینڈ کے ساحلوں پر بحیرۂ کورل میں موجود ہے۔ گریٹ بیریئر ریف کو خلاء سے دیکھا جا سکتا ہے اور یہ دنیا کا واحد سب سے بڑا ڈھانچہ ہے جو زندہ اجسام نے بنایا ہے۔ سنگی چٹانوں کو اربوں ننھے اجسام نے ترتیب دیا ہے جو کورل پولپ کہلاتے ہیں۔ گریٹ بیریئر ریف متنوع حیات کا حامل ہے اور 1981ء میں اسے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا گیا ...

                                               

قدیم دنیا کے سات عجائبات عالم

زمانۂ قدیم کے 7 عظیم تعمیراتی شاہکاروں کو 7 عجائبات عالم کہا جاتا ہے۔ عجائبات کی یہ فہرست 305 سے 204 قبل مسیح کے دوران ترتیب دی گئی۔ تاہم مذکورہ فہرست زمانے کی دست برد کی نظر ہو گئی۔ ان 7 عجائبات کا ذکر 140 قبل مسیح کی ایک نظم میں بھی ملتا ہے۔ ان 7 عجائبات عالم میں اہرام مصر، بابل کے معلق باغات، معبد آرتمیس، زیوس کا مجسمہ، موسولس کا مزار، روڈس کا مجسمہ اور اسکندریہ کا روشن مینار شامل ہیں۔ ان تمام عمارتوں میں سے صرف اہرام مصر اب تک قائم ہیں۔ جبکہ بابل کے باغات کی تاحال موجودگی ثابت نہیں۔ دیگر 5 عجائبات قدرتی آفات کا شکار ہو کر تباہ ہوئے۔ ارٹیمس کا مندر اور زیوس کا مجسمہ آتش زدگی اور اسکندری ...

                                               

قرطاجنہ

قرطاج یا قرطاجنہ یا قرطاجہ میں موجودہ تونس شہر کے قریب فونیقیوں کا ایک شہر تھا جو 814 قبل مسیح میں آباد کیا گیا، آج صرف اس کے آثار باقی ہیں۔ یہ سلطنت قرطاج کے عہد میں قائم کیا گیا شہر تھا، جس کا تیسری صدی ق م میں یونانیوں سے ٹکراؤ ہوا تھا اور عہد عتیق انگریزی: Ancient Age کی مشہور لڑائیاں پیونک جنگیں انگریزی: Punic Wars لڑی گئیں جن میں یونانی اور فونیقی تین مرتبہ مدمقابل آئے۔ دوسری پیونک جنگ 218 تا 201 ق م میں قرطاجنہ کے ہنی بال نے روم پر چڑھائی کی تاہم حتمی شکست سے ہسپانیہ اور دیگر علاقے قرطاجنہ کے ہاتھوں سے نکل گئے۔ 146 ق م میں رومیوں نے قرطاجنہ کو تباہ کر دیا۔ قرطاجنہ کا عظیم شہر سفید س ...

                                               

ممفس، مصر

ممفس مصر میں واقع ایک عالمی ثقافتی مقام ہے۔ اس مقام کو 1979ء میں یہ درجہ ملا۔ یہ شہر قدیم مصر کا ایک بڑا شہر تھا، اُس وقت مصر میں تین حکومتیں تھیں: شمالی، وسطی اور جنوبی۔ وسطی مصر کے فرعون مینس نے ایک بڑے لشکر کے ہمراہ جنوبی مصر کے حکمراں سائت پر حملہ آور ہوا، سائت کو اس نے شکست دی اور جنوبی مصر کو اپنی سلطنت میں شامل کر لیا۔ اس کے بعد وہ شمالی مصر پر حملہ آور ہوا اور اسے بھی اپنی سلطنت میں شامل کر لیا۔ یوں پہلی بار مصر میں ایک متحدہ سلطنت قائم ہوئی، پھر مینس نے ہی ممفس کو تقریباً 3000 ق م میں قدیم مملکت کے عہد میں تعمیر کیا اور اپنا پایۂ تخت بنایا۔ آج کل ممفس دریائے نیل کے دامن میں قاہرہ ...

                                               

موہن جو دڑو

موہن جو دڑو وادی سندھ کی قدیم تہذیب کا ایک مرکز تھا۔ یہ لاڑکانہ سے بیس کلومیٹر دور اور سکھر سے 80 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہے۔ یہ وادی، وادی سندھ کی تہذیب کے ایک اور اہم مرکز ہڑپہ صوبہ پنجاب سے 686 میل دور ہے۔ یہ شہر 2600 قبل مسیح موجود تھا اور 1700 قبل مسیح میں نامعلوم وجوہات کی بناء پر ختم ہو گیا۔ تاہم ماہرین کے خیال میں دریائے سندھ کے رخ کی تبدیلی، سیلاب، بیرونی حملہ آور یا زلزلہ اہم وجوہات ہوسکتی ہیں۔ اسے قدیم مصر اور بین النہرین کی تہذیبوں کا ہم عصر سمجھا جاتا ہے۔ 1980ء میں یونیسکو نے اسے یونیسکو عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا۔

                                               

مینار جام

مینار جام یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ میں شامل مقام ہے جو مغربی افغانستان کے صوبہ غور میں ضلع شاہراک میں دریائے ہری کے کنارے پر واقع ہے۔ مینار جام 65 میٹر اونچا مینار ہے جو پہاڑوں میں گھرا ہوا ہے جو تقریباً 2400 میٹر تک بلند ہیں۔ یہ مینار 1190ء میں تعمیر کیا گیا تھا اور خالصتاّ بھٹی میں پکائی ہوئی سرخ اینٹوں سے بنایا گیا ہے۔ یہ اپنی تعمیر میں استعمال ہونے والی مضبوط اینٹ، کشیدہ پھول کاریوں اور فن تعمیر کی وجہ سے مشہور ہے۔ اس مینار پر کوفی اور نسخ انداز میں کیلیگرافی کی گئی ہے اور جیومیٹری کے اصولوں کے عین مطابق نہایت صفائی سے پھول بوٹے اور سورۃ مریم سے آیات کنندہ کیے گئے ہیں۔

                                               

ٹھٹہ

ٹھٹہ پاکستان کے صوبہ سندھ میں کینجھر جھیل کے نزدیک واقع تقریباً 22،000 بائیس ہزار نفوس پر مشتمل ایک تاریخی مقام ہے۔ ٹھٹہ کے بیش تر تاریخی مقامات و نوادرات کو یونیسکو کے عالمی ثقافتی ادارے نے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا ہے۔ یہ قصبہ کراچی کے مشرق میں تقریباً 98 کلومیٹر یا 60 میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ کراچی کے قرب میں ہونے کی وجہ سے، اس تاریخی و خوبصورت جگہ پر سیاحت کے دلدادہ لوگوں کی بڑی تعداد آسانی کے ساتھ یہاں پہنچ جاتی ہے، خصوصاً ہفتہ وار تعطیلات کے ایام میں یہاں لوگوں کی بڑی تعداد سیروسیاحت اور تاریخی مقامات، مزارات، مساجد وغیرہ کی زیارت کے لیے آتی ہے۔ اس کے اطراف میں بنجر اور چٹانی کوہستا ...

                                               

پارتھینون

پارتھینون یونانی دیوی ایتھنا کا مندر ہے جسے موجودہ یونانی دار الحکومت ایتھنز کے مشہور زمانہ ایکروپولس میں 5 ویں صدی میں تعمیر کیا گیا۔ یہ قدیم یونان کی عمارات میں سب سے زیادہ بہتر حالت میں ہے۔ اس میں موجود بت یونانی آرٹ کے عروج کی داستانیں بیان کرتے ہیں۔ سب سے زیادہ سیاحوں کو اپنی جانب کھینچنے والے یونانی آثار قدیمہ پارتھینون قدیم یونان اور ایتھنز کی جمہوریہ کی علامت اور دنیا کی عظیم ثقافتی یادگاروں میں سے ایک ہے۔ یونانی وزارت ثقافت اس کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے منصوبے پر کام کر رہی ہے۔ قدیم پارتھینون 480 قبل مسیح میں فارسیوں کے حملے میں تباہ ہو گیا تھا جس کے بعد موجودہ پارتھینون کو اس ق ...

                                               

کولوزیئم

کولوزیئم دنیا بھر میں روم کی پہچان سمجھا جاتا ہے۔ یہ اکھاڑہ 80 بعد از مسیح میں رومن بادشاہ ٹائٹس نے تعمیر کرایا اور اس کے افتتاح کے بعد 100 دن تک رومی باشندوں نے ان خونی کھیلوں کا مظاہرہ کیا جس میں غلاموں کو لڑایا جاتا تھا جنہیں Gladiators کہا جاتا تھا۔ اس عرصے میں تقریباً 9 ہزار جانور اور انسان موت کی بھینٹ چڑھے۔ اس اکھاڑے میں 50 ہزار افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے جس میں بادشاہ، امرا، مصاحبین، عام شہری اور غلاموں کے لیے الگ درجہ بندی ہے۔ اس اکھاڑے کی زمین پر ریت کی دبیز تہ بچھائی جاتی تھی تاکہ خون جذبے ہو سکے۔ اکھاڑے کے لیے انگریزی میں استعمال ہونے والے لفظ ARENA کے معنی ہی ریت کے ہیں۔ یہ ...

                                               

کوہ کینیا

کوہ کینیا 5199 میٹر 17057 فٹ بلند ایک مردہ آتش فشاں پہاڑ ہے جو وسطی کینیا میں واقع ہے۔ خط استوا کے انتہائی قریب واقع کوہ کینیا کلیمنجارو کے بعد افریقا کا دوسرا سب سے بڑا پہاڑ ہے۔ یہ 25 سے 30 لاکھ سال قبل بڑے پیمانے پر آتش فشانی سرگرمیوں کے نتیجے میں تشکیل پایا۔ حکومت کینیا نے کوہ کینیا اور اس کے ارد گرد کے علاقے کو قومی چراگاہ کا درجہ دیا ہے جبکہ اقوام متحدہ نے اسے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا ہے۔ یہ کینیا کے مشہور ترین سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے۔ پہاڑ کے ارد گرد پائے جانے والے گینڈوں، ہاتھیوں اور جنگلی بھینسوں کو دیکھنے کے لیے بڑی تعداد میں سیاح آتے ہیں۔ اس پہاڑ کو سب سے پہلے 1899ء میں برط ...

ایشیا کے عالمی ثقافتی ورثہ مقامات کی فہرستیں
                                               

ایشیا کے عالمی ثقافتی ورثہ مقامات کی فہرستیں

یہ فہارست ایشیا کے عالمی ثقافتی ورثہ مقامات ہے۔ فہرست مشرقی ایشیا کے عالمی ثقافتی ورثہ مقامات فہرست جنوبی ایشیا کے عالمی ثقافتی ورثہ مقامات فہرست جنوب مشرقی ایشیا کے عالمی ثقافتی ورثہ مقامات فہرست شمالی اور وسطی ایشیا کے عالمی ثقافتی ورثہ مقامات فہرست مغربی ایشیا کے عالمی ثقافتی ورثہ مقامات

جدول مقامات عالمی ثقافتی ورثہ بلحاظ ملک
                                               

جدول مقامات عالمی ثقافتی ورثہ بلحاظ ملک

2012 کے مطابق دنیا میں اس قت 962 عالمی ورثہ مقامات ہیں جو 157 ممالک میں پھیلے ہوئے ہیں۔ 962 عالمی ورثہ مقامات کی تقسیم ہوں ہے۔ 188 - قدرتی 29 - مخلوط خصوصیات 745 - ثقافتی

                                               

مغربی ایشیا کے عالمی ثقافتی ورثہ مقامات کی فہرست

یہ فہرست مغربی ایشیا کے عالمی ثقافتی ورثہ مقامات ہے۔ یونیسکو نے 17 ممالک میں 71 عالمی ثقافتی ورثہ مقامات نامزد کیے ہیں۔ مغربی ایشیا میں آرمینیا، آذربائیجان، بحرین، قبرص، ایران، عراق، اسرائیل، اردن، لبنان، سلطنت عمان، سعودی عرب، شام، ترکی، متحدہ عرب امارات، قطر اور يمن میں عالمی ثقافتی ورثہ مقامات ہیں۔

افریقہ کے عالمی ثقافتی ورثہ مقامات کی فہرست
                                               

افریقہ کے عالمی ثقافتی ورثہ مقامات کی فہرست

List of UNESCO World Heritage Sites official website VRheritage.orgآرکائیو شدہ بذریعہ vrheritage.org - documentation of World Heritage Sites Worldheritage-Forumآرکائیو شدہ بذریعہ worldheritage-forum.net - Information and Weblog on World Heritage Issues UNESCO World Heritage Centre official website

                                               

فہرست مشرقی ایشیا کے عالمی ثقافتی ورثہ مقامات

یہ فہرست مشرقی ایشیا کے عالمی ثقافتی ورثہ مقامات ہے۔ یونیسکو نے مشرقی ایشیا کے پانچ ممالک چین، منگولیا، شمالی کوریا، جنوبی کوریا اور جاپان میں 73 یونیسکو عالمی ثقافتی ورثہ نامزد کیے ہیں۔

قلعہ دروشپ چترال
                                               

قلعہ دروشپ چترال

قلعہء دروشپ، جسے مقامی زبان کھوار میں شاہی قلعہ اور دروشپو قلعہ بھی کہا جاتا ہے، پاکستان کے صوبہء خیبر پختونخوا کے ضلع چترال کے گرم چشمہ میں واقع ہے۔ یہاں پر گرم پانی کا چشمہ بھی ہے اور اسی مناسبت اس وادی کو گرم چشمہ بھی کہا جاتا ہے-

مغربی گھاٹ
                                               

مغربی گھاٹ

مغربی گھاٹ بھارت کے مغربی ساحل پر واقع سلاسلِ کوہ ہے۔ یہ دکن سطح مرتفع کی مغربی سرحد پر بحر ِ عرب کے متوازی واقع ہے۔ یہ سہیادری ، سہیہ پروت وغیرہ ناموں سے معروف ہے۔ یہ گجرات، مہاراشٹر، گووا، کرناٹک، کیرالا اور تمل ناڈو وغیرہ بھارتی ریاستوں میں پھیلا ہوا ہے۔ یہ سدا بہار جنگلات سے گھرا ہوا ہے۔ یہ دنیا کے دس حیاتی تنوع علاقوں میں ایک ہے۔ حیاتیاتی تنوع میں اس کا مقام آٹھواں ہے ۔

Free and no ads
no need to download or install

Pino - logical board game which is based on tactics and strategy. In general this is a remix of chess, checkers and corners. The game develops imagination, concentration, teaches how to solve tasks, plan their own actions and of course to think logically. It does not matter how much pieces you have, the main thing is how they are placement!

online intellectual game →